Mere Humdum Mere Humnawah by Huma Zeeshan

The Beam Magazine presents an Urdu nazm ‘Mere Humdum Mere Humnawah‘ by Huma Zeeshan.

!!!میرے ہمدم میرے ہمنواہ

تجھ سے ملنے کی طلب ہے دل میں

 اور میں ہوں بس۔

جتنا بھی چاہوں کہ اس بار نہیں

 سوچوں گی تجھے

مگر تیری پرچھاییاں ہیں کہ

پیچھا  ہی نہیں چھوڑتی میرا

تو ہے خوش مجھ سے بچھڑ کر لیکن

میں نے اک عمر گزاری ہے تجھے تکتے تکتے

اب کیسے ممکن ہے کہ

تجھ کو بھلایا جاۓ۔

تیری یادوں کے سوا اب تو کوئی

 مجھےیاد  بھی نہیں۔۔

تیری باتوں کے سوا کوئی بھی بات نہیں۔

وہ موسم وہ بارش۔۔

وہ چائے۔ وہ قصے پرانے۔۔

 وہ دھوپ وہ چھاٶں۔

کیسے بھولے گا کوئی

 وہ پرانی شاعری۔

میری غزلوں میں چھپا وہ پیار تیرا۔۔

میری نظموں میں جو شامل ہیں الفاظ تیرے۔۔

کیسے سب کچھ میں بھلا دوں

 اک بے ربط سانسوں کی زندگی میں۔۔

اک آس ہے تجھ سے سر گوشیاں ہوں گی۔۔

تو ملے گا تو تجھ سے بہت سی باتیں کروں گی۔

تجھ سے مل کر تیرے سارے غم

 تجھ سے میں لے لوں گی۔۔

تاکہ تیرے پھر سے چھوڑ جانے کے بعد بھی

 میں سکون سے

تیرے دیے ہوئے غموں کے ساتھ

جی سکوں۔۔

میرے ہمدم  میرے ہمنواہ!!!۔

مجھے ملنے اک کوشش تو کر

میں تجھے تجھ سے بھی قریب ملوں گی۔

فقط اپنے بھی دل میں جھانک

اور دل پر لگائے گئے قفل کو تو توڑ۔

میں تجھے تیرے دل میں ملوں گی۔۔

اپنی سانسوں کو تیری امانت سمجھ کر

 کب سے اپنے پاس سنبھال رکھا ہے میں نے

 اب اک کرم کر دے مجھ پر۔۔

یاتو واپس آجا لوٹ کر۔۔

یا یہ امانت لے جا  اپنی۔۔

میرے ہمدم میرے ہمنواہ

تجھ سے ملنے کی طلب ہے دل میں ۔

اور میں ہوں بس۔۔۔۔۔۔۔

‘ہُما زیشان۔۔۔۔’

For more Urdu and English poetry available on The Beam Magazine, CLICK HERE.

Digiprove sealCopyright protected by Digiprove © 2019

Leave a Reply

avatar

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  Subscribe  
Notify of